سعودی عرب کے 27 سالہ دہشت گرد شہری محمد عبداللہ العبید نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی یونیورسٹیوں اور مساجد میں القاعدہ دہشت گرد تنظیم میں بھرتی کا کام زور و شور کے ساتھ جاری ہے اور یہ دہشت گرد عراق ، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم عمل ہیں ۔ العبید نے کہا کہ میں ریاض میں امام محمد بن سعود یونیورسٹی کا طالبعلم تھا اور مجھے میرے ساتھ نے القاعدہ کی ویڈیو دکھائی ۔ اس نے کہا کہ القاعدہ میں مسلح افراد کی بھرتی کرنے والوں نے میری تنخواہ دوبئی کے ذریعہ شام پہنچا دی ہے العبید نے کہا کہ میرے گروپ میں 20 افراد یمن ، تونس ، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے شامل تھے العبید نے کہا کہ اسے 2008 میں عراقی سکیورٹی دستوں نے گرفتار کیا۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک کے متمول افراد القاعدہ کو خطیر مالی رقم فراہم کرکے عراق ، افغانستان اور پاکستنان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق سعودی عرب دہشت گردی کو فروغ دینے کا اصلی مرکز ہے سیکڑوں سعودی شہری عراق ، افغانستان اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں گرفتارکرکے سعودی عرب حکومت کے حوالے کئے جاچکے ہیں لیکن سعودی عرب میں ان کے خلاف ابھی تک کوئی خاص کارروائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی پشت پر سعودی حکومت کا ہاتھ ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 169451
سعودی دہشت گرد العبید کے اعتراف کے مطابق سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی یونیورسٹیوں اور مساجد میں القاعدہ دہشت گرد تنظیم کے لئے بھرتی کا کام جاری ہے۔